کیا عمران خان کا کیس بیلنس کرنے کی کوشش ہورہی ہے؟

کیا عمران خان کا کیس بیلنس کرنے کی کوشش ہورہی ہے؟

نوازشریف نے تو کوئی منی ٹریل نہیں دی سوائے ایک قطری کے۔۔۔
عمران خان نے 1977 سے 1988 کی کمائی کی منی ٹریل جمع کرادی
کیری پیکر سیریز اور سسیکس کاؤنٹی کی منی ٹریل بھی جمع کرادی
لندن فلیٹ کی خریداری کے ڈاکومنٹس بھی جمع کرادئیے
لندن فلیٹ کی رجسٹری بھی جمع کرادی
لندن فلیٹ کی فروخت کی سیل ڈید بھی جمع کرادی
نیازی سروسز کی تمام تفصیلات بھی دیدیں
بنی گالہ کی جمائما سے آئے پیسوں کی منی ٹریل بھی دیدی
بنی گالہ کی راشد خان کو ملنے والے پیسوں کی منی ٹریل بھی دیدی
بنی گالہ کی 10 اقساط میں ادائیگی کی تفصیلات بھی دیدیں
بنی گالہ کی رجسٹری بھی دیدی
عمران خان نے 1981 سے اب تک کے ٹیکس کی تفصیلات بھی دیدیں
پی سی بی کی آمدن کی تفصیلات بھی جمع کرادیں

لیکن اسکے باوجود ایسا لگ رہا ہے جیسے کیس کو بیلنس کرنے کی کوشش ہورہی ہے کیونکہ عمران خان کہیں پھنس نہیں رہا۔۔ ہر چیز کلئیر ہوتی جارہی ہے
جو عمران خان سے مانگا گیا ، عمران خان نے سر جھکا کر دی۔ چالیس سال پرانا ریکارڈ لے آیا

عدالت جس طرف نکل پڑی ہے یہ کل کو قتل کے مجرم کو پھانسی دیتے وقت مدعی کو بھی پھانسی لگائے گی تاکہ بیلنس ہو جائے کیونکہ عمران خان کا قصور ہے کہ اس نے پانامہ ایشو اٹھایا اور نوازشریف کو پھنسادیا۔ یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کبھی کسی عہدے پر نہیں رہا، کبھی وزیراعظم، وزیر یا چئیرمین کرکٹ بورڈ نہیں رہا لیکن اس سے ایک ایک چیز کا حساب مانگا جارہا ہے ، اس دور کا جب وہ کرکٹر تھا۔ کوئی نہ کوئی مسئلہ نکال ہی لیا جاتا ہے، نعیم بخاری ایک چیز ٹھیک کرتا ہے تو دوسرا اعتراض سامنے آجاتا ہے۔

ایک طرف شریف خاندان ہے جسکی اخری دن تک منت ترلہ جاری رہا کہ اب دستاویزات دے دو اب دےدو اب مانگ رہےہیں اور خان سے فرمائشی پروگرام نہیں مک رہے۔ ہم بےوقوف نہیں ہیں شریف خاندان 2006 کی دستاویزات بھی نہیں دے سکا اور عمران خان نے 1984 کی بینکنگ ٹریل دے دی ہے اور فلیٹ کی خریداری سے فروخت تک، پیسے پاکستان لانے تک اور بنی گالہ خریدنے تک ہر چیز کی منی ٹریل دی ہے ۔

مجھے تو لگتا ہے کہ یہ کیس کبھی ختم ہوگا ہی نہیں۔ کیس ایسے ہی چلتا رہے گا جب تک عمران خان کہیں پھنسے ناں۔۔ عمران خان سے 1970 میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی تعلیم، پاکٹ منی اور عیدیوں کا بھی حساب لینا شروع کردینا ہے۔ ثاقب نثار وہی ہیں جسے ملتان الیکشن ٹریبونل نے نااہل کیا تو جسٹس ثاقب نثار نے اسکی نااہلی ختم کرکے اسے الیکشن لڑنے کی اجازت دیدی۔ ثاقب نثار ہی تھے جو نوازشریف کی اتفاق فونڈری کے وکیل تھے۔ بنچ کے دوسرے رکن عمر عطا بندیال کی بھی ن لیگ سے قربت ڈھکی چھپی نہیں۔ انکا سارا خاندان ہی ن لیگ کی طرف سے الیکشن لڑتا ہے۔ آپکو یاد ہوگا کہ جسٹس ثاقب نثار نے تو پچھلی سماعت میں عمران خان پر منی لانڈرنگ کا الزام بھی لگادیا تھا جس پر عمران خان کو ثابت کرنا پڑا کہ کوئی منی لانڈرنگ نہیں ہوئی۔


Advertisements