نوازشریف کے ہائی سٹیکس اور خوفناک تصادم

نوازشریف کے ہائی سٹیکس اور خوفناک تصادم

ہائی سٹیکس 

میں نے اپنی ایک پچھلی پوسٹ میں بات کی تھی جب “سٹیکس” ہائی ہو جائیں تو نقصان کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور مزاحمت یقینی ہو جاتی ہے۔ یہ ہائی سٹیکس ہوتا کیا ہے ؟ “ہائی سٹیکس” ٹرم گیمبلنگ میں استعمال ہوتی ہے۔ جس کا آسان مطلب انتہائی رسک یا انتہائی آخری حد ہے۔ یہ اصطلاح جوئے کے دوران استعال ہوتی ہے جب آپ اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں اور اگلی چال آپ کے مقدر کا فیصلہ کرتی ہے کہ آیا آپ کے نصیب میں تخت لکھا ہے یا تختہ ؟ یا تو اپ آج ڈبل امیر ہو جائیں گے یا پھر زندگی کی ساری جمع پونچی ہار جائیں گے۔

چلیے اور ایک مثال سے سمجھاتا ہوں۔ آپ ایک سنسان جگہ سے گزر رہے ہیں تو آپ کو ایک ڈاکو پستول دکھا کر روک لیتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ آپ کی جیب میں جو کچھ بھی ہے، وہ اس کے حوالے کر دیں۔ اب فرض کیجیے کہ آپ کی جیب میں صرف سو روپے ہیں تو آپ کیا کریں گے ؟ ظاہری سی بات ہے کہ آپ سو روپے کے لیے کبھی بھی ڈاکو سے تکرار نہیں کریں گے بلکہ وہ سو روپے کا نوٹ ڈاکو کے حوالے کر دیں گے اور اپنی زندگی بچا لیں گے۔

اب فرض کیجیے کہ اگر آپ کی جیب میں دس ہزار روپے ہوں تو پھر آپ کیا کریں گے ؟ اس صورتحال میں آپ پریشان ضرور ہوں گے لیکن شاید جان خطرے میں پھر بھی نہیں ڈالیں گے بلکہ بوجھل دل کے ساتھ دس ہزار روپے بھی ڈاکو بھائی کی خدمت میں پیش کر کے جان بچا لیں گے۔ لیکن اب ذرا یہ فرض کیجیے کہ آپ کی جیب میں آپ کی عمر بھر کی کمائی ہو تو پھر آپ کیا کریں گے ؟ یہ وہ پوائنٹ ہے جہاں آپ کے سٹیکس ہائی ہو گئے ہیں۔ اب آپ کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں۔ یا تو آپ سب کچھ ڈاکو کے حوالے کر کے روتے ہوئے گھر واپس چلے جائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا پھر ڈاکو کے سامنے مزاحمت کریں اور اس پر قابو پا لینے کے بعد اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی بچا لیں۔

یہاں پر بھی دو مزید باتیں ہیں۔ پہلے آپ ڈاکو کی جسامت اور صحت دیکھیں گے کہ کیا آپ اسے گرا سکتے ہیں ؟ پھر آپ اپنی جسامت، ہمت اور صحت دیکھیں گے کہ کیا میں نہتا ہو کر اس ڈاکو پر غلبہ پا سکتا ہوں ؟ اور فرض کیجیے اگر آپ کی جیب میں ایک عدد پستول بھی ہو تو پھر ؟ کیا آپ ڈاکو کے حوالے سب کچھ کر دیں گے یا ہر صورت میں لڑائی کر کے اپنی زندگی کی جمع پونجی بچائیں گے ؟ 

یہ وہ نقطہ ہے جہاں آپ “ہائی سٹیکس” تو ہیں لیکن آپ اپنی طاقت سے بھی واقف ہو چکے ہیں۔ اب انسانی نفسیات کا تقاضا یہی ہے کہ آپ جان داؤ پر لگا دیں گے اور یا تو ڈاکو کو مار کر خود کو بچا لیں گے یا پھر ڈاکو آپ کو مار دے گا لیکن اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ یوں سمجھے آپ نے اپنی آخری چال پر اپنی جان داؤ پر لگا دی۔ اب تخت یا تختہ !!!۔

بالکل یہی حالت اس وقت نوازشریف کی ہے۔ جس کے سٹیکس آخری انتہا پر پہنچ چکے ہیں۔ اس کے خلاف بات پانامہ سے شروع ہوئی تھی اور یہ معاملہ سولہ مزید جائیدادوں اور کاروبار کی تحقیات، نیب کے ریفرنسز، حدیبیہ منی لاندرنگ سے ہوتا ہوا والیم دس میں موجود بھارت اور اسرائل کے ساتھ ذاتی روابط، سیکورٹی رسک اور مزید اربوں کھربوں ڈالرز کی کھوج تک پہنچ چکا ہے۔ نوازشریف نے زندگی بھر جو کرپشن کی تھی وہ سب کچھ منظر عام پر آ چکا ہے۔ نیب ریفرنسز کے بعد گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں، بنک اکاؤنٹس فریز بھی ہو سکتے ہیں اور ٹرائل کورٹ سے جیل بھی ہو سکتی ہے۔ 

ایسے میں آپ کا کیا خیال ہے وہ یہ سب کچھ ہونے دے گا ؟ وہ آرام سے سرنڈر کر دے گا ؟ یہ ٹھیک وہی مقام ہے جب آپ اپنے مخالف کی طاقت کو جانچ کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ کو کیسے لڑنا ہے اور اگر آپ کی جیب میں اسلحہ بھی موجود ہو تو آپ سوچتے ہیں کہ مخالف کو آرام سے زیر کر کے میں بچ جاؤں گا۔ اسی طرح نواز شریف بھی یہی سوچ رہا ہے کہ میں حکمران خاندان سے ہوں، پنجاب اور وفاقی حکومتیں میرے تابع ہیں۔ وزیروں، مشیروں، درباریوں، لفافہ صحافیوں، میڈیا ہاؤسزاور ٹٹ پونجیے اینکروں کی فوج ظفر موج میرے اشارے پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہے تو آپ کے خیال میں اب نواز شریف لڑے گا یا خاموشی کے ساتھ عدالت کا فیصلہ قبول کر لے گا ؟ 

جی نہیں !!! اب نہ صرف نوازشریف لڑے گا بلکہ پہلے سے زیادہ خوفناک طریقے سے لڑے گا۔ اس نے ایک طرف عمران خان پر عائشہ گلالئی سے کرداری کشی کی مہم جاری کر دی ہوئی ہے۔ دوسری طرف عاصمہ جہانگیر سے عدالتوں پر حملہ کروا دیا ہے۔ تیسری طرف شیخ رشید اور عمران خان کے قتل کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے اور شیخ رشید پر حملہ بھی ہو چکا ہے، اتوار کو براستہ موٹروے لاہور جاتے ہوئے طاقت کا مظاہرہ، خون خرابہ، عدالتوں اور فوج کے خلاف نعرے بازی کا پروگرام اور موجودہ نئی مریم نواز کابینہ کے تشکیل پانے کے بعد تمام منصوبے مکمل طور پر تیار ہو چکے ہیں۔ اب کی بار اس جنگ میں جنگ/جیو اور ڈان گروپ کے ساتھ ساتھ سیفما اور بھارتی میڈیا بھی نواز شریف کی مکمل حمایت کرے گا اور اس کا نمونہ آپ نے کل کے بھارتی اخبارات میں دیکھ ہی لیا ہو گا جس میں عمران خان کے خلاف بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ 

یہ تمام منصوبے اس وقت ایکٹیو اور فنکشنل ہیں۔ نواز شریف پاکستان کے ریاستی اداروں کو تباہ و برباد کرنے کے ساتھ ساتھ انتہائی خوفناک صورتحال پیدا کرنے جا رہا ہے۔ کیونکہ سٹیکس اپنی انتہا پر پہنچ چکے ہیں اور نوازشریف نے لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ رہے نام اللہ کا 

تحریر و تحقیق: عاشور بابا

Advertisements