میاں! نہیں ہوتا تجھ سے چَیز

میاں! نہیں ہوتا تجھ سے چَیز

لنڈے کی جیکٹ پر گُشی کا ٹیگ لگانے، روڈ پرنس بائیک خرید کر ہُنڈا کے ٹینکی ٹاپے ڈلوانے یا بگ ایپل کی بوتل میں شراب ملانے سے محض دکھاوا ممکن ہے، حقائق و نتائج کو بدلا نہیں جا سکتا۔۔ جگت تھی نا کہ، ایک بندہ پیٹھ پر جھاڑو باندھ کر کہتا، سب مجھے مور کہو ۔۔ 


کچھ عرصہ قبل بلاول کی لائونچنگ ہوئی تو گلے میں لال سبز مفلر پہنے اور بازو لہراتے ہوئے میدان میں آئے۔۔ جلسے میں بھی ترانے بجے اور کارکنان کے ٹھُمکے اور جھوم برابر جھوم ۔۔ کسی نے فرمایا، صرف بلاول ہی نوجوانوں کا لیڈر ہے، کیونکہ وہ خود نوجوان ہے (بالفرض)۔۔ کیا حاصل ہوا ؟ کیا لوگوں نے بلاول کو تبدیلی کا نشان مان لیا یا پیپلزپارٹی کو نجات دہندہ ؟ وجہ سادہ ہے، عوام جانتے ہیں کہ بلاول صرف نقاب ہے اور اصل چہرہ زرادری اینڈ کمپنی ہے۔۔ پانامہ کیس فیصلہ آنے پر سراج الحق کی میڈیا گفتگو سُن کر غصہ اور ہنسی کی ملی جُلی کیفیت تھی، موصوف نے بار بار پانامہ لیکس کیس کا کریڈٹ اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی۔۔ کیا حاصل ہوا ؟ وجہ سادہ ہے، عوام جانتے ہیں کہ فرید پراچی، لیاقت بلوچی سیاست کے علاوہ جہلم ضمنی اور آزاد کشمیر عام انتخابات کے دوران ن لیگ سے اتحاد بنانے والی اور اسمبلی میں ایاز صادق کو ووٹ دینے والی بھی یہ نام نہاد جماعت صالحین ہی تھی۔۔


موو آن پاکستان، پاک سر زمین پارٹی،پاکستان فریڈم پارٹی یہ چند نئی جماعتیں سیاست میں آئی ہیں۔۔ موو آن پاکستان کے پاس ملکی مسائل کا حل، مارشل لاء ہے۔۔ مصطفی کمال فرماتے ہیں کہ ہمیں اس بات سے غرض نہیں کہ وفاق میں کس کی کیسی حکومت ہے، ہمارا مقصد صرف کراچی ہے۔۔ میڈیا میں ہارون خواجہ کا کافی چرچہ ہوا، موصوف کی پانامہ لیکس کے مسئلے پر ایک بھی پریس ریلیز ڈھونڈے نہیں ملتی۔۔ حقیقی تبدیلی لانے اور قابل قیادت ہونے کے دعویدار نجانے کہاں کھو گئے۔۔ آلو پانچ روپے ٹینڈے دس روپے کلو ہو گئے۔۔


نا اہلی ریلی، واہ بانوے نیوز ! کیا خوب نام دیا۔۔ لشکر جنگوی نے اشتہارات بٹورے، چالاک وکیلوں نے چیک کمائے اور پپو پانچوں پیپرز میں فیل۔۔ سلسلہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا، قاسمی، شامی، نام گرامی طلعت، نا زندہ جاوید و خورشید، میاں صاحب کو پٹھے مشورے دینے سے باز نہیں آئے۔۔ درباریوں نے سوچا ہزار ہزار روپے نقد اور ڈبہ بند بریانی کا لالچ دیکر سارے ویلے نکمے اسلام آباد میں اکٹھے کر لیں گے۔۔ تو بات بن جائے گی ۔۔ میاں صاحب، کھسیانی بلی بنے ہوئے تھے، ذہن پر ابھی تک آزادی مارچ اور احتساب ریلی کے نقش باقی تھے، سوچا کنٹینر ہو گا، ترانے ہوں گے، کار کی چوما چاٹی کرنیوالے اور جھومر بھنگڑا پارٹی سے ان کا ٹینکوں کے آگے لیٹنے کا خواب پورا ہو جائے گا۔۔ کیا حاصل ہوا ؟ اے آر وائے، چوبیس نیوز اور بانوے نیوز کی نشریات بند، بول نیوز کے رپورٹر پر تشدد اور سماء کی گاڑی پر پتھرائو اور دھمکیاں ۔۔ بوکھلاہٹ کے سوا کچھ نہیں ملا۔۔ گستاخی معاف، اس سے زیادہ رش تو پینڈو کسی کو ایئرپورٹ پر چھورنے جائیں تو ہو جاتا ہے۔۔ عدلیہ بحالی تحریک اور عدلیہ سے بے حالی تحریک میں فرق میاں صاحب سمجھ ہی نہ پائے۔۔ عوام کی عدالت نے خوب فیصلہ سُنا دیا۔۔


کون بچائے گا پاکستان؟ عمران خان عمران خان ۔۔
کپتان کے کنٹینر میں کوئی مقناطیس نہیں تھا، جو ایک سو چھبیس دن لگاتار عوام کے دل کھینچتا رہا۔۔بلکہ کپتان کی نیت صاف اور مقصد شفاف کا جادو تھا۔۔ ٹیم بنا اور ادارے چلا کر کپتان نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو منوایا ہے۔۔ مفلر پہننے، کنٹینر پر چڑھنے، کرائے کے ٹٹو اکٹھے کرنے یا ترانے چلا لینے سے کوئی عمران خان نہیں بن جاتا۔۔ کیونکہ عمران خان، نیٹو سپلائی دھرنا میں کنٹینر پہ سوتا ہے۔۔ امن مارچ کے دوران سب سے پہلی گاڑی میں سوار ہوتا ہے، ٹانک میں جلسہ پہلے سے طے نہیں تھا، کپتان گاڑی سے اترے اور سیف اللہ نیازی سے پوچھا، کدھر ؟ سیف نے قریب کھڑے ٹرک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اُدھر ! کپتان نے آئو دیکھا نہ تائو سائونڈ سسٹم والے ٹرک کی چھت پر سوار ہو گئے ۔۔ مائیک دو، ایک قبائلی نے اپنی پگڑی پیش کی وہ سر پہ رکھی اور تقریر شروع کر دی۔۔ رتی برابر بھی مصنوعیت نہیں ۔۔ لاہور ریلی میں کنٹینر پر اوور کراسنگ آتی تو چھت پر نیچے بیٹھ جاتے، پھر دوبارہ اٹھتے۔۔ کارکنان کیطرف ہاتھ ہلاتے۔۔ آزادی مارچ کے دوران ٹہنیوں سے جامن توڑ توڑ کر کارکنان کی طرف پھینکتے رہے۔۔ گویا یہ سب ظاہری چیزیں ثانی حیثیت رکھتی ہیں، سٹنٹ سے پہلے آپ کو کرتوت دکھانا ہوتے ہیں جس کی بنیاد پر آپ مقبول یا فضول بنتے ہیں۔۔

Advertisements