مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی کے گھر سے کمسن ملازم کی تشدد زدہ لاش برآمد

Body Of Male Domestic Help Found In Pml N Mpas House In Lahore

مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی رکن پنجاب اسمبلی شاہ جہان کے گھر سے 16 سالہ ملازم کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے کر رپورٹ طلب کرلی۔

پولیس نے لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی شاہ جہان کے گھر سے ملازم کی تشدد زدہ لاش برآمد کی جس کی شناخت اختر کے نام سے ہوئی ہے اور اس کی عمر 16 سال تھی۔

پولیس نے شاہ جہان کے گھر سے 9 سالہ ملازمہ آتیا کو بھی زخمی حالت میں بازیاب کرایا جسے مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا جب کہ ملازمہ آتیا مرنے والے اختر کی بہن ہے۔

پولیس کے مطابق ملازمہ آتیا کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے جسے طبی امداد دینے کے بعد فارغ کردیا گیا ہے۔

پولیس نے مقتول اختر کے والد کی مدعیت میں دفعہ 302 کے تحت رکن پنجاب اسمبلی شاہ جہان کی بیٹی فوزیہ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔

واقعے کے بعد ایم پی اے شاہ جہاں کے گھر پر تالا لگاکر بچوں سمیت غائب ہوگئی تھیں تاہم واقعے کی مبینہ ذمہ دار ایم پی اے کی بیٹی منظر عام پر آگئی ہیں۔

(ن) لیگی ایم پی اے کی بیٹی فوزیہ برقعہ پہن کر سیشن کورٹ پہنچ گئیں جہاں پولیس کی ٹیمیں ان کی گرفتاری کے لیے پہلے سے ہی موجود تھیں لیکن فوزیہ گرفتاری سے قبل ہی عبوری ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

ایڈیشنل سیشن جج نے 50 ہزار کے مچلکوں کے عوض ملزمہ فوزیہ کی ضمانت منظور کی اور مقدمے کی مزید سماعت کےلیے 20 جولائی کی تاریخ مقرر کردی ہے۔

عدالت نے سماعت کے موقع پر پولیس کو ریکارڈ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ملازم کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے جب کہ انہوں نے واقعے کی شفاف تحقیقات کی بھی ہدایت کی۔

Advertisements