قاتل پراڈو یا بی ایم ڈبلیو؟

قاتل پراڈو یا بی ایم ڈبلیو؟

خونِ خاک نشیناں

اس پہلو سے قطع نظر کہ ہزاروں گاڑیوں اور درجنوں ایمبیولینسز اور موبائل ہسپتالوں کی موجودگی میں گوجرانوالہ کا مبینہ “شہید جمہورت” خون میں غلطاں ایک چنگ چی رکشے میں ہسپتال منتقل کیا گیا؟؟
اس خون کے کچھ دوسرے پہلؤں کا سر سری سا احاطہ کرتے ہیں۔

کل ایک کم سن بچہ مبینہ طور پر میاں نواز شریف صاحب کے فلیٹ کی گاڑی/گاڑیوں تلے آ کر کچلا گیا۔ زیر نظر ویڈیو انتہائی قریب سے فلمائی گئی اور یہ اسکی را فوٹیج ہے۔ مین سٹریم میڈیا یہ خبر بوجوہ تفتیشی/تحقیقی انداز میں نشر کرنے سے گریزاں ہے۔ غالباً اسلیے کہ بچے کے لہو کی دھار میاں صاحب کی گاڑی کیطرف سے بہتی آ رہی ہے؟
زیر نظر ویڈیوز دیکھنے کے بعد اس ضمن میں چند باتیں توجہ طلب ہیں:۔

اس ویڈیو میں 0:13 پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ “روف ماؤنٹڈ بم جیمر گاڑی” کے پیچھے آنے والی تیسری سیاہ بی ایم ڈبلیو گاڑی مکمل طور پر ہموار سڑک پر چلتے ہوئے ایک ہلکا سا ہچکولا کھاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب بچہ اس گاڑی کے تلے کچلا گیا اور اسکا جسم گاڑی کے ہچکولے کا سبب بنا۔ بالکل اسی لمحے . . . عین اسی وقت پس منظر سے ایک مدھم سی آواز ابھرتی ہے “بندہ مار چھڈیا”۔ اس مرحلے پر یہ گاڑی نہیں رکتی اور آگے بڑھ جاتی ہے لیکن اسکے پیچھے آنیوالی سیاہ پراڈو جسکے سامنے بچہ زخمی حالت میں پڑا تھا فوراً رک جاتی ہے۔ یہی وہ سیاہ پراڈو ہے جسے اس بچے کے خون کا ذمہ دار ٹہرایا جا رہا ہے لیکن بغور دیکھیں تو یہ “سیاہ پراڈو” گاڑی زخمی بچے سے کئی فٹ کے فاصلے پر ذرا پہلے ہی رکی ہوئی ہے اور زخمی بچہ اُس سے دور پر پڑا ہے۔ یہاں یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ “سیاہ پراڈو” نے گاڑی سے بچہ کچل کر ریورس کر لی کیوں کہ یہ سب کچھ اس برق رفتاری اور چند سیکنڈ میں سرزد ہوا کہ کوئی بھی فارورڈ موونگ وہیکل بریک لگا کا آناً فاناً ریورس نہیں ہو سکتی جبکہ یہ سب کیمرے میں محفوظ ہو رہا تھا۔ کیوں کہ سیاہ بی ایم ڈبلیو کے بعد کیمرہ سیدھا بلیک پراڈو پر پین ہو کر آتا ہے جس میں اسے ساکت حالت میں رکا ہوا دیکھا جا سکتا ہے جو ہوشمند ڈرائیور کے اچانک بریک لگانے کا نتیجہ ہے۔

https://www.dailymotion.com/video/x5wov9b
تھانے میں ایف آئی آر کے اندراج کے وقت بھی مقتول کے چچا کو بار بار مجبور کیا جاتا رہا کہ ایک نامعلوم سیاہ پراڈو درج کیا جائے، امکان ہے کہ اس کالی پراڈو کا تعلق براہ راست میاں صاحب کیساتھ نہیں ہوگا ورنہ بار بار کالی پراڈو کو قاتل کار بنانے پر اصرار نہ ہوتا؟
https://www.dailymotion.com/video/x5woy3w
ٹی وی چینلز پر لواحقین کو کالی پجارو کہتے سنا گیا جبکہ اس ساری ویڈیو میں کوئی پجارو دور دور تک نظر نہیں آتی (یہی الجھن عدالت میں کیس کو کمزور کرتا ہے)۔

اسکی وجہ لوگوں کی کم علمی ہے کیوں کہ آج بھی ہر ایس یو وی کو عامۃ الناس میں پجارو ہی کہا جاتا ہے بلکہ اکثر تو “پجارو جیپ” کہا جاتا ہے جبکہ درحقیقت پجارو جاپانی اور جیپ امریکی گاڑی ہے۔ دونوں مکمل طور پر دو مختلف کاریں ہیں۔ جیپ ایک امریکی مینوفیکچرر/برینڈ ہے جس کی مختلف پراڈکٹس (گاڑیاں) ہیں اور پجارو ایک جاپانی مینوفیکچرر مٹسوبشی کی پراڈکٹ ہے۔ کیونکہ جیپ گاڑیوں، بالخصوص ایس یو ویز کے پیچھے اور سامنے لفظ جیپ بڑا موٹا موٹا لکھا ہوتا ہے اسلیے سادہ لوح لوگ اس گاڑی کو جیپ کہنے لگے جو آج بھی جاری ہے۔ کسی گاڑی کو “پجیرو جیپ” کہنا ایسے ہی ہے جیسے کسی گاڑی کو “نسان کرولا” کہا جائے۔
عامر متین صاحب کل ہی ایک پروگرام میں کہہ چکے ہیں کہ پرائم منسٹر ہاؤس کی گاڑیاں جی ٹی روڈ پر نواز شریف کے زیرِ استعمال ہیں۔ بلکہ پرائم منسٹر ہاؤس کا عملہ بھی ریلی میں دیکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بم پروف بی ایم ڈبلیوز کی ایک کھیپ بہت بھاری قیمتوں پر خریدی گئی ہے۔

یہ وہی سیاہ بی ایم ڈبلیوز ہیں جن کی نمر پلیٹس کبھی کسی موٹر سائیکل تو کبھی کسی سوزوکی مہران کی ہوتی ہیں۔ یہ جعلی نمبر پلیٹس وی آئی پی مومومنٹ کو محفوظ بنانے کیلئے لگائی جاتی ہیں۔ موجودہ بی ایم ڈبلیو گاڑی کی نمبر پلیٹ بھی کسی سوزوکی مہران کی ہے۔

https://www.youtube.com/watch?v=ka0DR7Tv4ic
یہ ویڈیو جیو نیوز کے کے کیمرا مین نے ریکارڈ کی ہے۔ غالباً ذرا فاصلے پر جا کر میاں صاحب نے اپنی بی ایم ڈبلیو گاڑی رکوائی۔ اس ویڈیو میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ میاں صاحب مکمل طور پر بوکھلائے ہوئے ہیں، ہوائیاں اُڑ رہی ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ “گاڑی لگی تو نہیں، بچت ہو گئی؟ میاں صاحب فوراً کہتے ہیں “نہیں نہیں نہیں گاڑی کچھ نہیں لگی” ۔ ۔ ۔ ۔ باوجود گھبراہٹ اور ہونق صورت اس سوال پر میاں صاحب کا پھرتی سے گاڑی لگنے سے انکار کیا ظاہر کرتا ہے؟
میاں صاحب کا اٹکنا، ہکلانا، بکبکانا کہ رستہ بھول گئے، مین روڈ سے ہٹ گئے ۔ ۔ ۔ سبب کیا ؟؟؟؟

نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِِ خاک ہو؟
Advertisements