عوام کیلئے آخری حد تک لڑوں گا اور استعفا نہیں دوں گا، وزیراعظم

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ حربے استعمال کرکے پاکستان کو پیچھے دھکیلا جارہا ہے لیکن میں ایسا ہونے نہیں دوں گا، انشااللہ عوام کے لیے آخری حد تک لڑوں گا اور استعفیٰ نہیں دوں گا۔

وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد قانونی اور سیاسی دونوں محاذوں پر بھرپور جدوجہد کی جائے گی اور وزیراعظم نواز شریف استعفا نہیں دیں گے۔

اجلاس کے دوران نون لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے وزیراعظم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف صادق اور امین ہیں، لاکھوں حامیوں اور کروڑوں ووٹرز کے ہمراہ نوازشریف اور شہباز شریف کے ساتھ ہیں۔

پارٹی رہنماؤں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جےآئی ٹی رپورٹ جھوٹ کا پلندہ ہے جسے 2 ماہ نہیں بلکہ کافی عرصے پہلے تیار کیا گیا جب کہ یہ رپورٹ تضادات کا مجموعہ ہے لہٰذا جھوٹا پروپیگنڈہ اور سازشیں ناکام ہوں گی۔

پارلیمانی پارٹی نے متفقہ اعلان کیا کہ ملکی ترقی کے دشمن متحرک ہیں تاہم مخالفین کے خلاف ڈٹے رہیں گے اور اکثریت کے خلاف اقلیت کی سازش ناکام ہوگی جب کہ سازش میں بیرونی ہدایت کار اور اندرونی اداکار ملوث ہیں۔

اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ حربے استعمال کر کے پاکستان کو پیچھے دھکیلا جارہا ہے لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا، عوام کے لیے آخری حد تک لڑوں گا اور استعفا نہیں دوں گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب سے آئے ہیں تب سے ہمارے اور اس ملک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، بلا جواز دھرنا مہم شروع کی گئی، اب تیسرے دھرنے کی تیاری اور مینڈیٹ پر تیسرا وار ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا یقین ہے کہ سپریم کورٹ ہماری بات سنے گی، استعفے کا سوچ بھی نہیں سکتا جب کہ استعفا وہ لوگ مانگ رہے ہیں جو ہمارے بدترین مخالف ہیں اور اگر ان کے تمام ووٹ اکٹھے کیے جائیں تب بھی ہمارا مینڈیٹ ان سے زیادہ ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں نواز شریف کی کرپشن کے بارے میں کوئی لفظ نہیں، ہم پر الزام لگانے والے کم از کم یہ بتائیں کہاں رشوت کھائی۔

نوازشریف نے مزید کہا کہ جب عدلیہ بحالی کی جنگ لڑی تو وہ سب چھپ گئے جو آج بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں لیکن ہم نے جان ہتھیلی پر رکھ کر عدلیہ کی آزادی کی جنگ لڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کا فیصلہ کیا اور دہشت گردوں کی کمر توڑ دی، یہ کوئی نہیں دیکھتا ہم ملک کو روشن کر رہے ہیں، ہمیں ملک کو روشن کرنے کی سزا دی جارہی ہے جب کہ انہیں کوئی نہیں دیکھتا جو ملک کو تباہ کرتے رہے ہیں، یہاں جب بھی کوئی آیا تو اس نے کہا آئین کو پھاڑ کر پھینک دوں گا، ماضی میں ملک کو اندھیروں میں غرق کیا گیا لیکن کیا آج پاکستان کو کوئی ناکام ریاست سمجھتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں حکومتوں پر سیکیورٹی رسک اور کرپشن کے الزامات لگا کر انہیں ختم کیا جاتا رہا ہے، مجھے کہا گیا اس کاغذ پر دستخط کردو لیکن میں نے ایک نصب العین کی خاطر ہمیشہ مشکلات کو برداشت کیا، عوام کے مینڈیٹ اور جمہوریت پر سمجھوتا نہیں کیا، بینظیر بھٹو سے میثاق جمہوریت کیا لیکن محترمہ نے چند ہفتوں بعد این آر او سائن کردیا۔

انہوں نے کہا کہ بڑے واقعات ہوئے جو میں بتا بھی نہیں سکتا، بعض دفعہ دل کرتا ہے سب کچھ کہہ دیا جائے لیکن وہ وقت ضرور آئے گا۔

وزیراعظم کا شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا  تھا کہ موٹروے اور توانائی کے منصوبوں میں کوئی ایک پیسے کی خوردبرد کی ہو تو بتاؤ جب کہ گزشتہ 4 سال میں کراچی، پنجاب اور دیگر علاقوں میں اربوں روپے کے پاور پلانٹس لگائے گئے۔

انہوں نے کہا کہ میرے گزشتہ ادوار میں بھی کک بیکس اور بدعنوانی کا ایک الزام ثابت کر کے دکھائیں اور اگر کوئی ثبوت نہیں تو الزام ہی لگادیئے جاتے ہیں۔

Source

Advertisements