سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے شریف خاندان کی ‘منی ٹریل’ کی حقیقت

کل مریم نواز کے زیرسایہ چلنے والے سوشل میڈیا کے زیراہتمام کچھ ڈاکومنٹس شئیر کی گئیں جنہیں ‘ منی ٹریل ‘ کا نام دے کر کہا گیا کہ میڈیا نے کسی ‘ سازش ‘ کی وجہ سے انہیں نہیں دکھایا لیکن نوازشریف نے تو تمام ثبوت جے آئی ٹی کو فراہم کردیئے ہیں۔میں نے کل کا سارا دن انتظار کیا کہ شاید پی ٹی آئی کے سرکاری ترجمان ان ڈاکومنٹس پر اپنا کوئی ردعمل پیش کریں لیکن جب وہ نہیں آیا تو سوچا کہ یہ مقدس فریضہ میں ہی کیوں نہ سرانجام دے دوں۔ سب لوگ قریب قریب آجائیں تاکہ میں آپ کو اس ‘ منی ٹریل ‘ کی حقیقت بتا سکوں۔

ن لیگ نے مندرجہ ذیل ڈاکومنٹس ریلیز کئے ہیں:

1۔ دو تصویروں میں تو صرف ‘ ٹیبل آف کانٹینٹس ‘ ہی ہیں جن میں لکھا ہے کہ فلاں کاغذ فلاں صفحے پر موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان پڑھ پٹواریوں نے ان دونوں تصویروں کو ہی منی ٹریل سمجھ کر سجدہ شکر ادا کرلیا ہوگا۔ ان دونوں تصویروں کی قانونی تو کیا، ادبی طور پر بھی کوئی حیثیت نہیں، یہ تو ایسا ہی ہے جیسے آپ کو امتحانی پرچے میں قائد اعظم کے چودہ نکات لکھنے کو دیئے جائیں اور آپ جواب میں لکھ آئیں کے یہ نکات مطالعہ پاکستان کے صفحہ نمبر 33 پر موجود ہیں۔

2۔ ایک ڈاکومنٹ دبئی بلدیہ کی طرف سے ایشو ہوا جس کا عنوان ہے ” لینڈ رینٹ ایگریمنٹ ” یعنی زمین کی لیز کا معاہدہ جو کہ دبئی کے اس وقت کے حاکم شیخ راشد بن مکتوم اور میاں طارق شفیع کے درمیان تھا۔

دبئی کے قوانین کے مطابق ساری زمین کا مالک دبئی کا حکمران ہوتا ہے اس لئے ہر قسم کی لیز کا کانٹریکٹ شیخ راشد اور دوسرے فریق کے درمیان لکھا جاتا تھا۔ یہاں نوازشریف کا ایک جھوٹ عیاں ہوتا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ہم نے دبئی کے حاکم شیخ راشد بن مکتوم کی پارٹنرشپ میں سٹیل مل لگائی، جبکہ یہ کاغذ صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے ایک ملین درہم کے عوض 15 سال کیلئے صرف زمین کرائے پر لی تھی، اس زمین پر چاھے سٹیل مل لگائیں یا کوئی ڈسکو کلب کھولتے، شیخ راشد کا کوئی لینا دینا نہیں تھا۔

اس ڈاکومنٹ میں ایک بہت بڑی تکنیکی غلطی موجود ہے۔ یہ معاہدہ 1970 میں لکھا گیا اور اس میں کرنسی ‘ ایک ملین درہم ‘ لکھی نظر آرہی ہے، جبکہ 1970 میں دبئی کی کرنسی کا نام ریال ہوا کرتا تھا، درہم نہیں۔ درہم کا اجرا 1973 میں ہوا۔ اب اس سوال کا جواب یا تو پٹواری دیں یا پھر دبئی بلدیہ کا کلرک کہ درہم نامی کرنسی شروع ہونے سے تین سال پہلے لینڈ رینٹ کانٹریکٹ میں اس کرنسی کا نام کیسے لکھ لیا گیا؟؟؟

۔ اس کے بعد مریم نواز سیل نے ایک اور کانٹریکٹ کی کاپی دکھائی ہے جو کہ طارق شفیع اور ایک دبئی کے مقامی باشندے عبدالرحمان عبداللہ کے درمیان 1980 میں طے پایا۔ معاہدے میں درج ہے کہ عبداللہ نے طارق شفیع کی سٹیل مل کا 25 فیصد شئیر 12 ملین درہم کے عوض خرید لیا۔ اسی معاہدے کے دوسرے پیج پر درج ہے کہ پوری سٹیل مل میاں شریف سے 33 ملین درہم کی خریدی گئی۔

یہاں بھی آپ کو تکنیکی غلطی نظر آئے گی کہ اگر 25 فیصد شئیر کی مالیت 12 ملین درہم بنتی ہے تو پھر پوری مل کی ویلیو 48 ملین درہم ہونی چاہیئے، نہ کہ33 ملین درہم۔
کیا میاں شریف اتنا جاہل تھا کہ طارق شفیع نے تو اپنے 25 فیصد شئیر 12 ملین میں بیچ دیئے لیکن میاں شریف اپنے 75 فیصد شئیر صرف 21 ملین درہم میں ہی بیچ سکا؟
حضور، ایسا نہیں ہوتا۔

4۔ اس کے بعد اگلا ڈاکومنٹ طارق شفیع کا ایک اقرار نامہ ہے جو کہ 50 روپے مالیت کے سٹامپ پیپر پر مقامی عرضی نویس نے تیار کیا تھا۔ اس ایفی ڈیوٹ کے مطابق طارق شفیع فرماتا ہے کہ اس نے ہر مہینے 2 ملین درہم ” کیش “کی صورت میں عبداللہ سے موصول کئے اور انہیں کیش کی صورت میں ہی قطری شہزادے فہد بن جاسم کے حوالے کردیئے۔اس ڈاکومنٹ سے غالباً یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ 1980 میں طارق شفیع نے 12 ملین درہم قطری کو دیئے جس کے نیتجے میں 2006 میں اس قطری کے بیٹے نے نوازشریف کے بچوں کو

لندن میں چار فلیٹس دے دیئے۔یہ ڈاکومنٹ ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ 1980 میں ہر مہینے 2 ملین درہم کیش کی صورت میں لینے کا مطلب آپ سمجھتے ہیں؟ اس کا مطلب ہے کہ عبداللہ نامی نوجوان نے پہلے وہ کیش خود سے گنا ہوگا، پھر طارق شفیع نے وصولی پاتے وقت بھی اس کی گنتی کی ہوگی، پھر جب وہ رقم قطری کو کیش کی صورت میں دی گئی تو اس نے بھی گنی ہوگی۔



1980 میں دبئی میں 500 کے نوٹ بہت کم ہوتے تھے اور صرف ڈیمانڈ پر ہی ملا کرتے تھے۔ اگر 2 ملین درہم میں 100، 100 کے نوٹ ہوں تو یہ 20 ہزار نوٹ بنتے ہیں جو ماشااللہ طارق شفیع گن کر اٹھایا کرتا تھا اور پھر قطری شہزادہ بھی اپنے انگوٹھے کو تھوک لگا کر یہ 20 ہزار نوٹ ہر مہینے گنننے کیلئے دبئی پہنچ جایا کرتا تھا۔دوسرا سوال یہ ہے کہ جب 12 ملین درہم طارق شفیع نے دیئے تو لندن کے چار فلیٹس بھی طارق شفیع یا اس کے بچوں کو ملنے چاہیئے تھے نہ کہ نوازشریف کے بچوں کو۔5۔ اس کے بعد آخر میں دو عدد کاپیاں دو چیکوں کی ہیں جن کی مالیت بالترتیب 21 ملین اور 20 ملین ریال ہے۔ یہ چیک مارچ 2005 کو عزیزیہ سٹیل مل کو ادا کئے گئے۔ کس نے کئے، کیوں کئے، اس کے بارے میں یہ ‘ اہم دستاویز ‘ مکمل خاموش ہے۔ ایک چیک کی نکر پر ہاتھ سے حسین نواز لکھا ہے اور ساتھ اردو میں الحمد للہ لکھا ہے،

اب پتہ نہیں یہ کوئی وظیفہ یا تعویذ تھا جس کا مقصد جے آئی ٹی کو گھول کر پلانا تھا تاکہ وہ اسے منی ٹریل مان لے۔آخری تجزیہ:ان ڈاکومنٹس کو ‘ منی ٹریل ‘ کہہ کر سوشل میڈیا پر پیش کرکے نوازشریف نے اپنے تابوت میں آخری کیل بھی ٹھوک دیا۔ یہ ثبوت کسی سرکاری دفتر کا کلرک بھی ماننے سے انکار کردے، جج تو دور کی بات۔ان ثبوتوں سے ابھی تک یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ:1۔ 1970 میں دبئی سٹیل مل کیلئے رقم کس اونٹ کی پشت پر لاد کر دبئی پہنچائی گئی؟2

۔ قطری کو 12 ملین طارق شفیع نے کیوں دیئے؟3۔ اگر میاں شریف نے سٹیل مل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کہیں اور انویسٹ کی تو وہ کہاں کی، کیسے کی اور کس زریعے سے کی؟ دنیا کا کوئی کاروبار اتنی بڑی رقم کیش میں وصول نہیں کرتا، سوائے اس کے کہ وہ کاروبار کوئی مافیا چلا رہا ہو۔4۔ جدہ سٹیل مل کیلئے پیسے کس بنک کے زریعے پاکستان یا دبئی سے جدہ پہنچے اور کب پہنچے؟

عزیزیہ سٹئیل مل کو ملنے والے 41 ملین ریال کیا حسین نواز نے دیئے تھے یا لئے تھے؟ دیئے تھے تو کیسے دیئے؟ لئے تھے تو کیوں لئے؟؟؟5۔ رہی بات 50 روپے کے سٹامپ پیپر کی، تو میں 100 روپے کا ایک ایفی ڈیوٹ تیار کرکے کہہ سکتا ہوں کہ اتفاق فاؤنڈری میں میرا 50 فیصد شئیر ہے۔ ایسے ایفی ڈیوٹس پر تو کوئی پکوڑے رکھ کر بھی نہ کھائے۔پٹواریوں کی قسمت خراب ہے، وہ نماز بخشوانے گئے اور روزے گلے پڑ گئے۔ پہلے تو صرف ایک قطری خط ہی مشکوک تھا، اب مزید 5 ڈاکومنٹس لانچ کر دیئے جنہوں نے مزید سوالات کھڑے کردیئے۔پٹواریو، ہور کوئی میرے لائق خدمت؟؟؟؟ بقلم خود باباکوڈا

Advertisements