اسحاق ڈار کی چیخیں اور عوامی ردِعمل

اسحاق ڈار کی پریس ٹاک

جس طرح اسحاق ڈار جوڈیشل اکیڈمی سے حواس باختہ باہر آیا ہے اس نے ساری کہانی کھول کر رکھ دی ہے کہ جے آئی ٹی نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ہو گا۔ باہر آتے ہوئے اسحاق ڈار کے ماتھے پر پسینے، چہرے پر ہوائیاں اور آنکھوں میں آنسو تھے


پریس ٹاک کے دوران مسلسل عمران خان کی ذات کو شدید ترین تنقید کا نشانہ بناتے رہے گویا کہ اندر تیل والا ڈنڈا لے کر عمران خان بیٹھا ہوا ہو۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی ایکسٹینشن ہے اور سپریم کورٹ میں نون لیگ نے پانچ مہینے کیس لڑا ہے اور اب دو مہینے سے جے آئی ٹی بھی اپنا کام کر رہی ہے تو یہ ایک خالصتاً قانونی جنگ ہے، اس میں بھلا عمران خان کہاں سے آ گیا ؟

لیکن کیا ہے کہ جب چھترول ہی اتنی ہو تو آنسو بھی رستہ بدل بدل کر نکلتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ پاکستان کی فلمی تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب ڈائیلاگ مولا جٹ فلم کے تھے۔ لیکن میں دعوے سے کہتا ہے کہ پاکستانی کی سیاسی تاریخ میں سب سے کامیاب ڈائیلاگ عمران خان کے تھے جو اب نون لیگ والوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکے ہیں اور ایسا ہی دو ڈائیلاگ تھے جو آپ کو ہر لمحے یاد آئیں گے

پہلا ڈائیلاگ منی لانڈرنگ اور چوری کے پیسے پر تھا کہ ”خواجہ آصف، یہ تمہارے باپ کا پیسہ نہیں ہے جو لوگ بھول جائیں گے”

اور دوسرا شہرہ آفاق ڈائیلاگ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”میں ان کو رلاؤں گا”

اسحاق ڈار کی روتی ہوئی تصویریں دیکھ کر مجھے اللہ کے انصاف پر یقین آ گیا ہے کہ وہ جب جب دھرتی پر نوازشریف جیسے شیطان پیدا کرتا ہے تو تب تب آسمان سے عمران خان جیسے فرشے بھی بھیجتا ہے جو ان شیطانوں کو بھیانک انجام سے دو چار کر سکیں اور یہ آنسو، یہ چیخیں، یہ آہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سب اسی بھیانک انجام کی ابتداء ہے

Advertisements